مایوس تو ہوں وعدے سے ترے
کچھ آس نہیں کچھ آس بھی ہے
میں اپنے خیالوں کے صدقے
تو پاس نہیں اور پاس بھی ہے
ہم نے تو خوشی مانگی تھی مگر
جس غم کا تعلق ہو تجھ سے
وہ راس نہیں اور راس بھی ہے
پلکوں پہ لرزتے اشکوں میں
تصویر جھلکتی ہے تیری
دیدار کی پیاسی آنکھوں میں
اب پیاس نہیں اور پیاس بھی ہے
ساحر لدھیانوی
No comments:
Post a Comment