محبت زاد ہے مجھ میں
کوئی فرہاد ہے مجھ میں
نہیں وِیران اندر سے
خدا کی یاد ہے مجھ میں
جو ہر دم ساتھ رہتا ہے
میں خود سے کٹ نہیں سکتا
مِری بنیاد ہے مجھ میں
اگرچہ میں قفس میں ہوں
کوئی آزاد ہے مجھ میں
جو مجھ کو صید رکھتا ہے
عجب صیاد ہے مجھ میں
ضمیرِ زندہ کی صورت
مِرا استاد ہے مجھ میں
نہیں اب میں نہیں ساحر
کہ وہ آباد ہے مجھ میں
ساحر لدھیانوی
No comments:
Post a Comment