Tuesday, 21 July 2020

ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں

ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں
اب مجھے حلقۂ "احباب" میں رہنا ہی نہیں
میں تری بات کرا دیتا ہوں خود سے, لیکن
آنکھ کہتی ہے کسی خواب میں رہنا ہی نہیں
نام بھی لیتا نہیں اب وہ کہیں "جانے" کا
کل جو کہتا تھا کہ پنجاب میں رہنا ہی نہیں
ہم ملاقات کے اوقات بڑھا دیں، لیکن
دیر تک "چاند" کو تالاب میں رہنا ہی نہیں
وہ تو ایسے ہی مجھے "آپ" بلاتی ہے حسن
جب کہ مجھ کو ادب آداب میں رہنا ہی نہیں

حسن ظہیر راجا

No comments:

Post a Comment