دھکے دئیے ہیں دھوپ نے سائے گلے پڑے
تم ساتھ جب نہیں تھے تو رستے گلے پڑے
اب ختم ہو چکا ہے "بزرگوں" کا احترام
دریا کو آ کے آج "کنارے" گلے پڑے
تم جا چکے تھے اور یہاں پھر تمہارے بعد
کیا "اور" کوئی "شہر" میں ملتا نہیں اسے؟
آ، آ "کے" روز "عشق" ہمارے گلے پڑے
اس "مفلسی" کے "بوجھ" نے ہلکا کیا مجھے
میں" خالی "ہاتھ" آیا تو "بچے" گلے پڑے"
اے دوست اس طرح بھی گزرتی ہے زندگی
اس کے گلے پڑے، کبھی اس کے گلے پڑے
حسن ظہیر راجا
No comments:
Post a Comment