مصروفیت اسی کی ہے فرصت اسی کی ہے
اس "سر زمین دل" پہ حکومت اسی کی ہے
ملتا ہے وہ بھی ترکِ "تعلق" کے باوجود
میں کیا کروں کہ مجھ کو بھی عادت اسی کی ہے
ہوتا ہے ہر کسی پہ "اسی" کا "گماں" مجھے
لکھوں تو اس کے عشق کو لکھنا ہے شاعری
سوچوں تو یہ سخن بھی "عنایت" اسی کی ہے
وہ جسکے حق میں جھوٹی گواہی بھی میں نے دی
روحی مِرے "خلاف" شہادت "اسی" کی ہے
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment