پہلے تو دل کو توڑ کے اچھا نہیں کیا
پھر بے دلی سے جوڑ کے اچھا نہیں کیا
میں سو رہا تھا مردہ ضمیروں میں چین سے
تم نے مجھے جھنجھوڑ کے اچھا نہیں کیا
اس نے رہِ حیات کے کانٹوں کے درمیاں
مجھ کو اکیلا چھوڑ کے اچھا نہیں کیا
ممکن ہے اس میں لذتِ اِیذا نہ وہ رہے
اس آبلے کو پھوڑ کے اچھا نہیں کیا
محفل میں بے رخی سے رقیبوں کے روبرو
منہ تم نے مجھ سے موڑ کے اچھا نہیں کیا
شامل تھا اس میں عظمتِ سادات کا خیال
سید کا خون نچوڑ کے اچھا نہیں کیا
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment