سخن کی تاب نہ ہو تو کلام کیسے کروں
اب ایسے حال میں ذکرِ امام کیسے کروں
تھکن سے چُور ہوں لیکن یہاں نہ ٹھہروں گا
دیارِ شام کی گلیوں میں شام کیسے کروں
گدائے شاہ تو باطل سے دب نہیں سکتا
جو مجھ سے ہو نہیں سکتا وہ کام کیسے کروں
دعا ہے شعر کہوں ان پہ اور جاں دے دوں
فقط حروف بھلا ان کے نام کیسے کروں
ترے کنارے پہ کوثر کا والی پیاسا رہا
بتا فرات! ترا احترام کیسے کروں؟
میں صلح کیش ہوں لیکن جو ان کا منکر ہے
تو ایسے شخص کو سید سلام کیسے کروں
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment