Saturday, 8 May 2021

باوا جی کا دور ہے جو کرنا ہے کرتا جا

 باوا جی کا دور ہے جو کرنا ہے، کرتا جا

سچ کو جھوٹا کرتا جا جھوٹ کو سچا کرتا جا

دو روٹی سے اک روٹی اک روٹی سے آدھی کر

پتھر کا مزدور بنا، لمبی تان کے سوتا جا

ٹوٹ بٹوٹ کی کابینہ شرم و حیا سے عاری ہو

نفرت کے پھر بیج منگا، سب کھیتوں میں بوتا جا

دھواں اٹھا دے شہروں میں، جنگل جیسی آگ لگا

جتنے شوق ہیں پورے کر حسد کے ساتھ پروتا جا

جگنو تتلی مسل کے رکھ دے خزاں چلا دے باغوں میں

غربت کے مینار بنا دے اور پھر ظلم بڑھاتا جا

باوا جی کا دور ہے، جو کرنا ہے کرتا جا


اعظم بیگ

No comments:

Post a Comment