Monday, 17 May 2021

گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے

 گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے

پھینکا ہے آسمان کی جانب اچھال کے

میں نے زمیں کو ناپ لیا آسمان تک

نظروں میں فاصلے ہیں عروج و زوال کے

چہرے ہر اک سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب

شعلوں پہ کچھ نشان لگے ہیں سوال کے

لوگ میں اب وہ چرب زبانی نہیں رہی

یا ہجر میں اُداس ہیں قصے وصال کے

ہر شخص سے ملا ہوں بڑی احتیاط سے

ہر شخصیت کو میں نے پڑھا ہے سنبھال کے

اب شاعری سے صرف ہے لفظوں کا واسطہ

رشتے تمام ہو گئے فکر و خیال کے


احمد وصی

No comments:

Post a Comment