Tuesday, 11 May 2021

آج پھر خود سے ٹکرایا ہوں

 آج پھر خود سے ٹکرایا ہوں

آپ اپنا میں ہمسایا ہوں

میں نکل کر تِری خوشبو سے

اب تِری قید میں آیا ہوں

چاہوں بھی تو میں نا جا سکوں

کشتیاں میں جلا آیا ہوں

دسترس میری تجھ تلک بس

دیکھ میں تیرا ہی سایا ہوں

خامشی میرا سرمایا ہے

خود کو لفظوں میں لایا ہوں

دیکھ کر اپنا چہرہ اتاش

آج میں تجھ سے مل آیا ہوں


ذیشان اتاش

No comments:

Post a Comment