آج پھر خود سے ٹکرایا ہوں
آپ اپنا میں ہمسایا ہوں
میں نکل کر تِری خوشبو سے
اب تِری قید میں آیا ہوں
چاہوں بھی تو میں نا جا سکوں
کشتیاں میں جلا آیا ہوں
دسترس میری تجھ تلک بس
دیکھ میں تیرا ہی سایا ہوں
خامشی میرا سرمایا ہے
خود کو لفظوں میں لایا ہوں
دیکھ کر اپنا چہرہ اتاش
آج میں تجھ سے مل آیا ہوں
ذیشان اتاش
No comments:
Post a Comment