یہ وقت کا آئینہ کہ تھا دھات کا دریا
مجھ موج سے جاری ہوا دن رات کا دریا
پس ڈوبنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی
بہتا ہے بہت سست مکافات کا دریا
صحرا بھی کوئی عرصۂ محشر ہے کہ جس میں
دریا کی ہے برسات، نہ برسات کا دریا
برباد بدن کشتئ خوش سمت میں ڈھالا
آنسو میں بھرا میں نے مناجات کا دریا
ڈرتا ہوں ک پیاس آگ میں تبدیل نہ ہو جایے
غیرت کو گوارا نہیں خیرات کا دریا
یہ کیسی خلش ہے جسے مرنے میں کشش ہے
پیاسا ہے سمندر سے ملاقات کا دریا
بجلی ہے کوئی موجۂ پرشور میں پنہاں
تیور ہے کوئی مرگِ مفاجات کا دریا
میں ہوں وہی میں ریتلی مٹی کا کنارہ
دریا ہے وہی گردشِ حالات کا دریا
مشکل نہیں صحراؤں کی پہچان مٹانا
رکھتا ہے بھرم ریت کی اوقات کا دریا
اس پار نہ آیا ترے سورج کا سفینہ
ہنستا ہے توکل پہ تری رات کا دریا
پانی مجھے دم کر کے پلایا گیا شاہد
اور پار کیا میں نے طلسمات کا دریا
شاہد ذکی
No comments:
Post a Comment