Monday, 17 May 2021

بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں

 بس ایک بار اُٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں

وبالِ جان ہے ڈر، خاتمہ ہی کر ڈالیں

قبولیت کو سُنا ہے کہ ضد دعا سے ہے

تو کیوں نہ ایسا کریں بد دعا ہی کر ڈالیں

کھسکتے لمحوں سے یہ زندگی نے پوچھ لیا

حقیر ہم ہیں کہ تم؟ فیصلہ ہی کر ڈالیں

نشاط و کیف کے سامان عن قریب کہاں

اب اختصار صفِ مدعا ہی کر ڈالیں

ارادہ کر جو لیا ترکِ خود کلامی کا

تو یاد ماضی کا غم مکتبہ ہی کر ڈالیں

اثر زبان کو دُشواریاں بھی ہیں لاحق

سو اہتمام کوئی دوسرا ہی کر ڈالیں


مرغوب اثر فاطمی

No comments:

Post a Comment