Monday, 17 May 2021

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں

 نغمے تڑپ رہے ہیں دلِ بے قرار میں

آنکھیں برس رہی ہیں غمِ انتظار میں

فطرت اداس سی ہے گھٹائیں ہیں سوگوار

اک غم نصیب حسن ہے ابرِ بہار میں

ہے ذرہ ذرہ شوقِ سماعت سے بے قرار

تم گُنگنا رہے ہو کسی آبشار میں

ساون کی رُت بہار کا موسم اندھیری رات

رم جھم کے گیت گونج رہے ہیں پھوار میں

سپنوں میں ہو گیا ہے سویرا کہیں مجھے

بیٹھا ہوا ہوں جیسے کسی لالہ زار میں

ایسا لگا کہ ساتھ ہی گاتے ہیں آبشار

کیا موہنی سی لَے ہے تمہارے ستار میں

کیوں آج سر جھُکائے ہوئے رو رہے ہو تم

بکھرے ہوئے ہیں بال غم و انتشار میں


بی ایس جین جوہر

No comments:

Post a Comment