Tuesday, 4 May 2021

ایک طرفہ چاہت کے سلسلے نہیں اچھے

 ایک طرفہ چاہت کے سلسلے نہیں اچھے

ریت کے گھروندوں میں آسرے نہیں اچھے

آؤ عشق کرتے ہیں اک نئے ہی چہرے سے

دائرے کے اوپر تو دائرے نہیں اچھے

زندگی کو رہنے دو زندگی کی خاطر بھی

ہر قدم پہ اپنے ہی فائدے نہیں اچھے

برف جیسی راتوں میں برف ہی نہ ہو جائیں

اس قدر بھی آنکھوں میں رتجگے نہیں اچھے

آندھیوں کے موسم میں کچھ بچا نہ پاؤ گے

کھوکھلے درختوں پر گھونسلے نہیں اچھے

جانے کب کہاں اپنی منزلیں بدل جائیں

موسمی پرندوں سے واسطے نہیں اچھے

پھر بھی پار کرنا ہے ہجر کے سمندر کو

جانتا ہوں لہروں کے زاویے نہیں اچھے

نکتہ چیں ہیں نبیوں کے، بے ادب جو ولیوں کے

اس طرح کے لوگوں سے رابطے نہیں اچھے

آپ ٹھہرے اہلِ زر، اور ہم فقط شاعر

ہم ہزار اچھے ہوں، آپ سے نہیں اچھے


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment