ایک طرفہ چاہت کے سلسلے نہیں اچھے
ریت کے گھروندوں میں آسرے نہیں اچھے
آؤ عشق کرتے ہیں اک نئے ہی چہرے سے
دائرے کے اوپر تو دائرے نہیں اچھے
زندگی کو رہنے دو زندگی کی خاطر بھی
ہر قدم پہ اپنے ہی فائدے نہیں اچھے
برف جیسی راتوں میں برف ہی نہ ہو جائیں
اس قدر بھی آنکھوں میں رتجگے نہیں اچھے
آندھیوں کے موسم میں کچھ بچا نہ پاؤ گے
کھوکھلے درختوں پر گھونسلے نہیں اچھے
جانے کب کہاں اپنی منزلیں بدل جائیں
موسمی پرندوں سے واسطے نہیں اچھے
پھر بھی پار کرنا ہے ہجر کے سمندر کو
جانتا ہوں لہروں کے زاویے نہیں اچھے
نکتہ چیں ہیں نبیوں کے، بے ادب جو ولیوں کے
اس طرح کے لوگوں سے رابطے نہیں اچھے
آپ ٹھہرے اہلِ زر، اور ہم فقط شاعر
ہم ہزار اچھے ہوں، آپ سے نہیں اچھے
دائم بٹ
No comments:
Post a Comment