کون تیری کہی نہیں کرتا
ہاں مگر آدمی نہیں کرتا
تو مِرا سر اُٹھا لے نیزے پر
جا، تِری پیروی نہیں کرتا
ہے منافق دِیا مِرے گھر کا
جل کے بھی روشنی نہیں کرتا
قیس بچہ ہے سامنے میرے
بس میں آوارگی نہیں کرتا
خضر کو موت آ گئی ہے کیا
کیوں میری رہبری نہیں کرتا
اب تِری آرزو کہاں مجھ کو
میں تِری بات بھی نہیں کرتا
آفتاب نواب
No comments:
Post a Comment