قبر تک ساتھ خیالوں کے سفر جائیں گے
رنگ ہیں خواب نہیں ہیں کہ بکھر جائیں گے
منصفو! فیصلے تاخیر پہ یوں مت چھوڑو
ورنہ مظلوم عدالت میں ہی مر جائیں گے
زیست سے ٹھوکریں کھاکر جو ادھر آئے ہیں
موت بھی ساتھ نہ دے گی تو کدھر جائیں گے
آج امیدِ وفا تجھ کو دلاتے ہیں مگر
کل تو دیکھے گا یہی لوگ مُکر جائیں گے
ہم تجھے دیکھنا آواز نہیں دیں گے اور
سر جھُکا کر تِرے کُوچے سے گزر جائیں گے
سوچ زرخیز زمیں پر جو نہ برسے بارش
پھر کہاں باغ کے یہ شجر و ثمر جائیں گے؟
موت آغوش میں گر لینے ارم آئی تو
ہم بھی لپٹےہوئے چُپ چاپ اُدھر جائیں گے
ارم شفیق
No comments:
Post a Comment