Sunday, 23 May 2021

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا

 اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا

چھوٹا سا اک دِیا جو سر احتساب تھا

رستہ مِرا تضاد کی تصویر ہو گیا

دریا بھی بہہ رہا تھا جہاں پر سراب تھا

وہ وقت بھی عجیب تھا حیران کر گیا

واضح تھا زندگی کی طرح اور خواب تھا

پہلے پڑاؤ سے ہی اسے لوٹنا پڑا

لمبی مسافتوں سے جسے اجتناب تھا

پھر بے نمو زمین تھی اور خشک تھے شجر

بے ابر آسماں کا چلن کامیاب تھا

اک بے قیاس بات سے منسوب ہو گیا

پھیلا ہوا حروف میں جو اضطراب تھا

اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا

کس مان پر کہوں وہ مِرا انتخاب تھا


یاسمین حمید

No comments:

Post a Comment