Sunday, 23 May 2021

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ

 ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ

کِیا نہ اس نے مِرا انتطار ایک منٹ

میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ

اِدھر بھی آئی تھی موجِ بہار ایک منٹ

پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا

ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ

ابد تلک ہوئے ہم اس کے وسوسوں کے اسیر

کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ

اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی

جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ

پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصر

کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ


باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment