Sunday, 23 May 2021

شاخ نازک تو اک بہانہ تھا

 شاخِ نازک تو اک بہانہ تھا

بس توکل پہ آشیانہ تھا

زندگی مختصر تو کر لیتے

پر ہمیں صبر آزمانا تھا

یا تو پھر ریت پر نہیں لکھتے

یا ہوا سے مجھے بچانا تھا

کوئی میرے قریب کیا ہوتا

میں نے خود سے بھی دور جانا تھا

ایک بارِ حیات اور اس پر

عشق کا بوجھ بھی اٹھانا تھا

ہر نیا زخم سہہ گئے یوں بھی

درد سے واسطہ پرانا تھا

تھی کہیں پر دلوں کے بیچ انا

اور کہیں درمیاں زمانہ تھا

ہر عبادت یہاں پہ خالص تھی

جب تلک رقص والہانہ تھا

اور بھی انتظار کرتے ہم

پر یہاں جتنا آب و دانہ تھا


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment