بات سائے کی نہیں بات کہ کس کا سایہ
نیم کڑوا ہے، مگر رکھتا ہے میٹھا سایہ
یہ فقط خیر کی برکت ہے کہ ان پیڑوں کا
بوڑھا ہونے پہ بھی ہوتا نہیں بوڑھا سایہ
کیا گلہ تم سے کہ اپنی جڑوں پر کرتے ہیں
سر پہ سورج ہو تو اشجار بھی اپنا سایہ
پیڑ ہونا تجھے معلوم ہے کیا ہوتا ہے؟
جسم پر دھوپ سہی اور کبھی بانٹا سایہ
یہ وہ چھتنار ہے جو دھوپ سے لڑ جاتا ہبے
باپ کے دم سے مرے صحن میں پھیلا سایہ
ضبط کا فیض تھا ساگر کہ سرِ دشتِ بلا
ایک انہونی ہوئی، دھوپ سے نکلا سایہ
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment