Friday, 21 May 2021

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

 چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

دھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے

تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپنا

چاند راتوں میں گنگناؤں تجھے

کچھ کہے ان کہے سوال کروں

اور یوں پھر سے آزماؤں تجھے

اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوں

کیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے

آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوں

کاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے


بینا گوئندی

No comments:

Post a Comment