Saturday, 8 May 2021

غزل کا سلسلہ تھا یاد ہو گا

 غزل کا سلسلہ تھا یاد ہو گا

وہ جو اک خواب سا تھا یاد ہو گا

بہاریں ہی بہاریں ناچتی تھیں

ہمارا بھی خدا تھا یاد ہو گا

سمندر کے کنارے سیپیوں سے

کسی نے دل لکھا تھا یاد ہو گا

لبوں پر چپ سی رہتی ہے ہمیشہ

کوئی وعدہ ہوا تھا یاد ہو گا

تمہارے بھولنے کو یاد کر کے

کوئی روتا رہا تھا یاد ہو گا

بغل میں تھے ہمارے گھر تو لیکن

گلی کا فاصلہ تھا یاد ہو گا

ہمارا حال تو سب جانتے ہیں

ہمارا حال کیا تھا یاد ہو گا


طفیل چترویدی

No comments:

Post a Comment