اس نے جانا ہے مگر ٹھیک نہیں جانا ہے
زخم کو ہدیۂ تبریک نہیں جانا ہے
بات سے بات نکالی ہے محبت کے لیے
بات کو بات کی تضحیک نہیں جانا ہے
دل کی ٹکسالی میں ڈھلتے ہیں طلائی سِکے
عشق پر مایۂ تشکیک نہیں جانا ہے
دینے والا ہے خدا، چاہے کسی صورت دے
بھیک کو ہم نے کبھی بھیک نہیں جانا ہے
ان آدابِ محبت کی حقیقت سمجھو
سوچ کو بھی تِرے نزدیک نہیں جانا ہے
جان کشمیری
No comments:
Post a Comment