سنی گئی ہے کچھ ایسے بھی گل فروشوں کی
کسی کے دھوکے میں ان کے گلاب بِکتے ہیں
ہمارے ساتھ عجب ہے کہ فاقہ مستی میں
شراب مفت بہم ہے،۔ کباب بکتے ہیں
یہ دیکھ کر تو طوائف کی آنکھ جُھک جائے
کہ جس طرح سے یہ عزت مآب بکتے ہیں
کسے خریدنے آئے تھے جس کے بعد یہاں
گلی گلی میں یہ خانہ خراب بکتے ہیں
ہمارے دریا کو پوچھا نہیں کسی نے اسد
وہ اور لوگ ہیں جن کے سراب بکتے ہیں
اسد رحمان
No comments:
Post a Comment