کسی کسی کو سمجھ آتی ہے کہانی بھی
ہر ایک شخص پہ کھُلتے نہیں معانی بھی
یہ لوگ پوچھ رہے ہیں تمہارے بارے میں
میں سوچتا ہوں سہولت ہے بے زبانی بھی
ہوا کا رنج بھی ہے اور دُکھ ہے مٹی کا
زمین زاد بھی ہوں، اور آسمانی بھی
بس ایک دشت ہی دیوار تک نہیں آیا
ہماری سمت سفر کر رہا ہے پانی بھی
دانش حیات
No comments:
Post a Comment