Saturday, 8 May 2021

چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

 چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

وہ آنکھ میرے درد کی تفسیر بن گئی

میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں اُنگلیاں

دیکھا جو غور سے تِری تصویر بن گئی

ہر سمت ہیں کٹی پڑی پھولوں کی گردنیں

اب کے صبا ہی باغ میں شمشیر بن گئی

اس کی نظر تو کہتی تھی پرواز کے لیے

میری ہی سوچ پاؤں کی زنجیر بن گئی

جس سمت وہ اُٹھی ہے اُدھر مُڑ گئی حیات

اس کی نظر ہی گردشِ تقدیر بن گئی


سلیم بیتاب

No comments:

Post a Comment