Saturday, 8 May 2021

میں جنگ مخالف نظم کہوں

 فسانۂ امن


میں جنگ مخالف نظم کہوں

میں کیسے امن کا گیت لکھوں

میں پہلی جنگ سے آج تلک

واقف تاریخ کی رات سے ہوں

جنگوں میں بقا پنہاں جن کی

میں وارد ان طبقات پہ ہوں

مصلوب غلام ہوئے جن پر

وہ دار کا ورثہ کس کا ہے

وہ کھیت ہوئے دہقاں جس سے

تلوار کا ورثہ کس کا ہے

مجھے یاد ہے خون شکاگو کا

مجھے یاد ہے پیرس کا مقتل

مجحے یاد ہیں روسی شاہراہیں

مجھے یاد ہنوئی کے جنگل

مجھے یاد چِلی اور بولیویا

مجھے یاد ہے موزمبیق کا خوں

مجھے یاد جکارتہ کا منظر

مجھے یاد ہے کابل میں وہ جنوں

جنہیں غرب کے غنڈوں نے پالا

مجھے یاد وہ سارے لشکر ہیں

یہ بن غازی، بغداد، حلب

مِرے سامنے سارے منظر ہیں

مرے دوش پہ قرض ہے صدیوں کا

سینے میں کروڑوں کتبے ہیں

جہاں میرا طبقہ قتل ہوا

مجھے یاد وہ شہر وہ قصبے ہیں

بپھرا ہے لشکر حافظ کا

ہے طیش میں مودی کی سینا

مفلوک کسانوں کے بچے

بد حال ہے محنت کش جنتا

اے امن پسندی کے مارو

جنگوں کا سبب سرمایہ ہے

اس زر کی غلاظت میں لتھڑی

دنیا میں امن فسانہ ہے

جنگوں سے گزر کر جاتا ہے

اور امن کا رستہ کوئی نہیں

مزدور، کساں، طلبا کے سوا

اس فوج کا دستہ کوئی نہیں

بارود کی آگ سے ہی دنیا

گلزار بنائی جائے گی

ہو گا یہ تشدد ختم اگر

بندوق اٹھائی جائے گی


مشتاق علی شان

No comments:

Post a Comment