Saturday, 8 May 2021

کون ہے اڑا رہا دھجیاں حیات کی

 کون ہے اُڑا رہا دھجیاں حیات کی

عشق میں اُجاڑ کر بستیاں حیات کی

نفرتوں کی آگ میں جل گیا ہے آدمی

دیکھ کر جہان میں تلخیاں حیات کی

خود سے ہمکلام ہوں کس کا میں غلام ہوں

کھا گئی شباب کو مستیاں حیات کی

اپنا ہی رقیب ہوں کیسا بد نصیب ہوں

دیکھتا ہوں ہر طرف کرچیاں حیات کی 

دیکھ کر نیاز کو ڈر گیا ہوں میں بہت

آ گئی ہیں سامنے پستیاں حیات کی


نیاز احمد عاطر

No comments:

Post a Comment