Monday, 17 May 2021

بند ہتھیلی میں ہیں سب

 بند ہتھیلی میں ہیں سب

جنگل ویرانے اور شب

دریا اُتر گیا تو کیا

نیّا ڈوب گئی ہے اب

پلکیں نم تھیں اور کوئی

میرے سنگ نہ رویا تب

لوگ مجھے پاگل کہتے

سچ کے موتی چنتی جب

جیون مجھ سے رُوٹھ گیا

بینا دستک دی تو کب


بینا گوئندی

No comments:

Post a Comment