جہاں پناہ میں محکوم لوگوں میں سے ہوں
مراد یہ ہے کہ معدوم لوگوں میں سے ہوں
اگرچہ زندہ ہوں میں، پھر بھی آپ کے نزدیک
مجھے پتہ ہے کہ مرحوم لوگوں میں سے ہوں
مجھے نکالیے فہرست سے درندوں کی
یقین کیجئے معلوم لوگوں میں سے ہوں
مِرا شمار بڑوں میں نہیں، نہ ہو گا کبھی
ذرا سمجھئے نا مفہوم، لوگوں میں سے ہوں
جسے اندھیرے میں رکھ کر ہیں اقتدار میں آپ
اسی قبیلے کے معصوم لوگوں میں سے ہوں
مِری نظر میں چھپی دیکھئے نا نفرت بھی
سمجھ بھی لیجئے مظلوم لوگوں میں سے ہوں
نصیب چھوڑ گیا ساتھ میرا مشکل میں
جناب راندۂ مقسوم لوگوں میں سے ہوں
مِرا شمار نہیں آپ جیسے لوگوں میں
میں اپنے عہد کے منظوم لوگوں میں سے ہوں
حضور والا میں شاعر ہوں نام فرحت ہے
یہ اور بات کہ مغموم لوگوں میں سے ہوں
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment