اک برقِ تجلّی نے میری تعمیر کے ٹُکڑے کر ڈالے
تدبیر کے ٹکڑے کر ڈالے، تقدیر کے ٹکڑے کر ڈالے
پایا نہ تھا جب تک اس بُت کو میں اپنی پرستش کرتا تھا
ہاتھ آ گئی جب اصلی صُورت، تصویر کے ٹکڑے کر ڈالے
بُھولا ہُوا جب تک تھا چُپ تھا، جب آ گئی اس کو یادِ وطن
اک چشمِ زدن میں قیدی نے زنجیر کے ٹکڑے کر ڈالے
شہ رگ کے قریب وہ رہتا تھا کس طرح گلا کٹ سکتا تھا
نازک سی رگِ گردن نے میری شمشیر کے ٹکڑے کر ڈالے
افسانہ غم کہنے کے لیے سوچے تو بہت کچھ تھے امجد
اک تیز نظر نے ظالم کی، تقدیر کے ٹکڑے کر ڈالے
امجد حیدرآبادی
سید احمد حسین
No comments:
Post a Comment