Wednesday, 19 May 2021

جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

 جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

ضرر ایجاد گھر گھر جاگتے ہیں

صدف آسودگی کی نیند سوئے

مگر پیاسے سمندر جاگتے ہیں

اُڑی افواہ اندھی بستیوں میں

ستاروں سے مقدر جاگتے ہیں

لٹیروں کے لیے سوتی ہیں آنکھیں

مگر ہم اپنے اندر جاگتے ہیں

اندھیروں میں کھنڈر سوتا پڑا ہے

ابابیلوں کے لشکر جاگتے ہیں


احسن یوسفزئی

No comments:

Post a Comment