حسرتِ دید رہی دید کا خواہاں ہو کر
دل میں رہتے ہیں مگر رہتے ہیں ارماں ہو کر
وہ مرے پاس ہیں احساس یہ ہوتا ہے ضرور
اس قدر دور ہیں نزدیک رگ جاں ہو کر
ہوش میں لانے کی تدبیر نہ کر اے ناصح
میں نے پایا ہے انہیں چاک گریباں ہو کر
خانۂ دل ہے تمہارا، تمہیں رہ سکتے ہو
غیر کو حق یہ نہیں ہے رہے مہماں ہو کر
در جاناں پہ پہنچنا ہے تو اس طرح پہنچ
چاک دل، چاک جگر، چاک گریباں ہو کر
رخ کا شیدائی ہے مائل بہ سیر گیسو
کہیں کافر نہ وہ ہو جائے مسلماں ہو کر
اس طرح جلوہ دکھاتے ہیں نہ میں دیکھ سکوں
دل میں رہتے ہیں مگر آنکھ سے پنہاں ہو کر
ان کا آئینہ ہوں، آئینے میں ہے عکس جمال
کیوں نہ دیکھیں وہ مجھے غور سے حیراں ہو کر
ان کے جلووں میں جو کھو جاؤں تو ڈھونڈو نہ مجھے
کون ملتا ہے کسے واصل جاناں ہو کر
وقت ایسا بھی پڑا بادیہ پیمائی میں
راہ میں گل جو ملے خار بہ داماں ہو کر
واصل بہرائچی
ابو محمد واصل
No comments:
Post a Comment