Monday, 10 May 2021

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی مے خانے کی

 جھُوم کے ساغر کون اُٹھائے کس کو پڑی مے خانے کی

ساقی کو بھی ہوش نہیں ہے قسمت ہے پیمانے کی

گُلشن گُلشن یوں پھرتی ہے چاک گریباں پھُول کی خُوشبو

جیسے صبا نے پھیلا دی ہو بات کسی دیوانے کی

دیوانے پن کی گھاٹی میں عقل کا سُورج ڈُوب چلا

شہرِ تخیل پر چھائی ہے شام کسی ویرانے کی

سارے سہارے چھُوٹ چلے ہیں صبح کا تارا ڈُوب چلا

پھر بھی تمنا سوچ رہی ہے بات کسی کے آنے کی

زندہ رہ کر ہی پہنچے گا پیار کا نغمہ گلیوں گلیوں

بات ادھُوری رہ جاتی ہے جل بھُن کر پروانے کی

بے دردوں کے دور میں ہے جُنبش خونِ تمنا ہونے دو

کوئی نہ کوئی آنسو سُرخی دے دے گا افسانے کی


جنبش خیرآبادی

No comments:

Post a Comment