عین اس وقت اسے چھوڑ کے جانا ہُوا ہے
جب مِرے نام سے منسوب زمانہ ہوا ہے
موت کا وقت مقرر تھا اسے دل پہ نہ لے
تیرا جانا تو مِرے دوست! بہانہ ہوا ہے
معترف ایک زمانہ ہے مِرے ضبط کا بھی
اور تِرا دستِ ستم کیش بھی مانا ہوا ہے
آنکھ سے روٹھ گئے خواب کو واپس لانے
اب کے اک اشک تعاقب میں روانہ ہوا ہے
منکشف ہونے لگے لمس کی اقلیم کے راز
جب کبھی تجھ سے مِرا ہاتھ ملانا ہوا ہے
اس کو تجدیدِ تعلق نے ہرا رکھنا تھا
آ بھی جاؤ کہ مِرا زخم پرانا ہوا ہے
ہفت افلاک پہ رکھی ہے نظر ہم نے بھی
کُنجِ دل جب سے اسد اپنا ٹھکانا ہوا ہے
اسد رحمان
No comments:
Post a Comment