لینا نہیں تھا نام کسی کا، مگر لیا
دل نے یہ کام کتنی سہولت سے کر لیا
پتے گِرے تو جسم چھپانے کے واسطے
پیڑوں نے اپنا آپ پرندوں سے بھر لیا
یک دم صدائے گِریہ و ماتم ہوئی بلند
چڑیوں نے جب درخت سے اذنِ سفر لیا
میں نے کہا کہ رات کی رانی سے کر گریز
خُوشبو نے میری بات کا اُلٹا اثر لیا
نظریں چُرا کے بھاگ تو آتا وہاں سے میں
اشکوں نے میری آنکھ کو موقع پہ دھر لیا
گر ہم نے زندگی سے رکھا ناروا سلوک
اس نے بھی ہم سے کام بہت مختصر لیا
ممتاز گورمانی
No comments:
Post a Comment