Saturday, 8 May 2021

کون ہیں یہ لوگ زخم کھائے ہوئے

 کون ہیں یہ لوگ زخم کھائے ہوئے

دل کی میت کو سر پہ اٹھائے ہوئے

آرزوئیں کہاں بیچ کر آئے ہیں؟

آج آئے ہیں پوچھو یہ کیا لائے ہیں

اک محبت سے یہ نہ سنبھالے گئے

اک محبت نہ ان سے سنبھالی گئی

زندگی بس امیدوں بھری جیب تھی

جیسے خالی ملی، ویسے خالی گئی

کیا ملا ہے محبت کے بازار سے

آج پھرتے ہو دل کو نقد ہار کے

جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں

پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی

زخم دیتے ہو کہتے ہو سیتے رہو

جان لے کر کہو گے جیتے رہو

پیار جب جب زمین پہ اتارا گیا

زندگی تجھ کو صدقے میں وارا گیا

حد یہی ہے تو حد سے گزر جائیں گے

عشق چاہے گا تو چپ چاپ مر جائیں گے

یہ محبت میں نکلی ہوئی فال ہے

عشق تو لال ہے،عشق تو لال ہے


خلیل الرحمان قمر

No comments:

Post a Comment