کون ہیں یہ لوگ زخم کھائے ہوئے
دل کی میت کو سر پہ اٹھائے ہوئے
آرزوئیں کہاں بیچ کر آئے ہیں؟
آج آئے ہیں پوچھو یہ کیا لائے ہیں
اک محبت سے یہ نہ سنبھالے گئے
اک محبت نہ ان سے سنبھالی گئی
زندگی بس امیدوں بھری جیب تھی
جیسے خالی ملی، ویسے خالی گئی
کیا ملا ہے محبت کے بازار سے
آج پھرتے ہو دل کو نقد ہار کے
جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں
پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی
زخم دیتے ہو کہتے ہو سیتے رہو
جان لے کر کہو گے جیتے رہو
پیار جب جب زمین پہ اتارا گیا
زندگی تجھ کو صدقے میں وارا گیا
حد یہی ہے تو حد سے گزر جائیں گے
عشق چاہے گا تو چپ چاپ مر جائیں گے
یہ محبت میں نکلی ہوئی فال ہے
عشق تو لال ہے،عشق تو لال ہے
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment