Tuesday, 18 May 2021

پیارے پیارے یگوں میں آئے پیارے پیارے لوگ

 پیارے پیارے یگوں میں آئے پیارے پیارے لوگ

اس بے چارے دور میں جنمے ہم بیچارے لوگ

ہر چہرہ پر کھنچی ہوئی ہیں تھکن کی ریکھائیں

جیت کا اک پل کھوج رہے ہیں ہارے ہارے لوگ

بھور بھئی پھر سانجھ بھئی پھر بھور بھئی پھر سانجھ

سمے چکر میں بندھے ہوئے ہیں سانجھ سکارے لوگ

آتی ہے اتہاس سے ان کے بھانت بھانت کی باس

ہر مٹی کو سونگھ چکے ہیں یہ بنجارے لوگ

حد بندی کی ریکھا توڑیں آؤ گلے لگ جائیں

اُدھر تمہارے لوگ کھڑے ہیں اِدھر ہمارے لوگ

اس ساون میں ہر آنگن میں دُکھوں کی ہے برسات

اب کے کوئی بچ نہیں پایا بھیگے سارے لوگ


احمد وصی

No comments:

Post a Comment