Tuesday, 18 May 2021

دم بخود ہے چاندنی چپ چاپ ہیں اشجار بھی

 دم بخود ہے چاندنی چپ چاپ ہیں اشجار بھی

آج کی شب تھم گئی کیوں وقت کی رفتار بھی

زیست کی ناؤ نہ جانے کس کنارے جا لگے

ملگجی سی دھند ہے اس پار بھی اس پار بھی

دل کی باتیں کہنے والے اور آہستہ ذرا

گوش بر آواز ہے کوئی پس دیوار بھی

آنسوؤں کا ابر وہ برسا کہ سب کچھ بہہ گیا

حسرتوں کے شہر بھی زخموں کے لالہ زار بھی


بشیر منذر 

No comments:

Post a Comment