Sunday, 9 May 2021

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں

 کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں

بہت سکوت ہے میں خود کو بے قرار کروں

بھروں میں رنگ نئے مضمحل تمنا میں

اداس رات کو آسودۂ بہار کروں

کچھ اور چاہ بڑھاؤں کچھ اور درد سہوں

جو مجھ سے دور ہے یوں اس کو ہمکنار کروں

وفا کے نام پہ کیا کیا جفائیں ہوتی رہیں

میں ہر لباسِ جفا آج تار تار کروں

وہ میری راہ میں کانٹے بچھائے میں لیکن

اسی کو پیار کروں، اس پہ اعتبار کروں

یہ میرے خواب، مِری زندگی کا سرمایہ

نہ کیوں یہ خواب بھی میں آج نذرِ یار کروں


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment