عشق چاہے ہو طلب گار برا لگتا ہے
ناسمجھ رُت میں سمجھدار برا لگتا ہے
جس سے راہی کے ارادوں میں خلل پیدا ہو
مجھ کو وہ سایۂ دیوار برا لگتا ہے
مل کے دونوں کریں ماتم تو خوشی ہوتی ہے
تیرے بن درد کا تہوار برا لگتا ہے
گھر کے آنگن میں ثقافت کی جبیں کا جھومر
رقص لیکن سرِ بازار برا لگتا ہے
یہ ترقی کی بجائے ہے تنزل کا نشاں
اس لیے شام کا اخبار برا لگتا ہے
تیرے رُخ پر تِرے باطن کی ہوس رقصاں ہے
خبط میں ضبط کا پرچار برا لگتا ہے
ان شہکار کی صورت ہے جہاں کی تمثیل
اس میں لیکن تِرا کردار برا لگتا ہے
جان کشمیری
No comments:
Post a Comment