Sunday, 9 May 2021

ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے

 ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے

اک کھیت نہیں، اک دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے

یاں ساگر ساگر موتی ہیں یاں پربت پربت ہیرے ہیں

یہ سارا مال ہمارا ہے،۔ ہم سارا خزانہ مانگیں گے

جو خون بہا جو باغ اُجڑے جو گیت دلوں میں قتل ہوئے

ہر قطرے کا ہر غنچے کا، ہر گیت کا بدلہ مانگیں گے

یہ سیٹھ، بیوپاری، رجواڑے، دس لاکھ تو ہم دس لاکھ کروڑ

یہ کتنے دن امریکہ سے جینے کا سہارا مانگیں گے

جب صف سیدھی ہو جائے گی جب سب جھگڑے مٹ جائیں گے

ہم ہر اک دیس کے جھنڈے پر اک لال ستارہ مانگیں گے

ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے

اک کھیت نہیں، اک دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے


فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment