Friday, 7 May 2021

خرد کی قید میں لائے گئے تواتر سے

 خرد کی قید میں لائے گئے تواتر سے

ہم ایسے وحشی سِدھائے گئے تواتر سے

نہ جانے کتنے عقائد ہمارے ذہنوں میں

سُنا سُنا کے بِٹھائے گئے تواتر سے

وگرنہ کام کوئی مستقل کیا ہی نہیں

بس اک گلی میں ہم آئے گئے تواتر سے

اک ایک کر کے بجھائے گئے چراغ یہاں

ہمارے لاشے اُٹھائے گئے تواتر سے

قدم بھی اُٹھنے سے انکار کب تلک کرتے

جب ایک سمت بلائے گئے تواتر سے

گمان تک بھی نہ گزرا کہ نیند ٹُوٹے گی

مجھے یوں خواب دکھائے گئے تواتر سے

بنانے والے کو خود بھی یہی پسند آئے

سو عام لوگ بنائے گئے تواتر سے


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment