باؤ جی اب بول بھی دو
لب اپنے اب کھول بھی دو
کتنے زخم اٹھاؤ گے
کتنا اور رُلاؤ گے
بند مُٹھی کو کھول بھی دو
باؤ جی اب بول بھی دو
ان کی رِیت پرانی ہے
اور یہ جیت پرانی ہے
لمبی ایک کہانی ہے
بند کتاب کھول بھی دو
باؤ جی اب بول بھی دو
جال بُنا مکاروں نے
نادیدہ حقاروں نے
انصاف کے ٹھیکیداروں نے
سچ کا پلّو کھول بھی دو
باؤ جی اب بول بھی دو
اب وقتِ نزع ہے رک جاؤ
اب وقتِ دعا ہے رک جاؤ
جاں تم پہ فدا ہے رک جاؤ
ضبط کے بندھن کھول بھی دو
باؤ جی اب بول بھی دو
منزل تمہی سے ہے مقصود
قوم کی آواز ہو تم
دھڑکنوں کے ساز ہو تم
بند دریچے اب کھول ہی دو
باؤ جی اب بول بھی دو
اعظم بیگ
No comments:
Post a Comment