Friday, 7 May 2021

باؤ جی اب بول بھی دو

 باؤ جی اب بول بھی دو

لب اپنے اب کھول بھی دو


کتنے زخم اٹھاؤ گے

کتنا اور رُلاؤ گے

بند مُٹھی کو کھول بھی دو

باؤ جی اب بول بھی دو


ان کی رِیت پرانی ہے

اور یہ جیت پرانی ہے

لمبی ایک کہانی ہے

بند کتاب کھول بھی دو

باؤ جی اب بول بھی دو


جال بُنا مکاروں نے

نادیدہ حقاروں نے

انصاف کے ٹھیکیداروں نے

سچ کا پلّو کھول بھی دو

باؤ جی اب بول بھی دو


اب وقتِ نزع ہے رک جاؤ

اب وقتِ دعا ہے رک جاؤ

جاں تم پہ فدا ہے رک جاؤ

ضبط کے بندھن کھول بھی دو

باؤ جی اب بول بھی دو


منزل تمہی سے ہے مقصود

قوم کی آواز ہو تم

دھڑکنوں کے ساز ہو تم

بند دریچے اب کھول ہی دو

باؤ جی اب بول بھی دو


اعظم بیگ

No comments:

Post a Comment