سنگ دل، کج نہاد، بے ڈھب ہے
موت عمروں کی دیکھتی کب ہے
ایک درویش نے کہا مجھ سے؛
عشق سب مذہبوں کا مذہب ہے
اے مصاحب! ذرا خیال رہے
آدمی آدمی ہے، رب رب ہے
اہلِ زر، اہلِ دل نہیں ہوتے
ان سے جینے کا اور مطلب ہے
کون دنیا کو جان سمجھائے؟
دل کا اپنا بھی ایک مذہب ہے
جان کشمیری
No comments:
Post a Comment