جو رنگ ترا اوڑھے
کچھ اور وہ کیا اوڑھے
اک باغ میں بیٹھا ہوں
پت جھڑ کی فضا اوڑھے
جھونکا ہے بہاروں کا
پھرتا ہے وبا اوڑھے
مٹی پڑی رہتی ہے
نقشِ کفِ پا اوڑھے
بھگدڑ سے نکل چلیے
چپ چاپ صدا اوڑھے
قُطبین میں گھومیں گے
اک شمسی ہوا اوڑھے
میں دُھوپ تری پہنوں
تُو سایہ مِرا اوڑھے
طاری ہو بدن جس پر
کیا تیرے سِوا اوڑھے
دو لہروں سے گزرا ہوں
صرصر میں صبا اوڑھے
لیٹا ہوں میں بستر پر
یادوں کی ردا اوڑھے
دن رات چمکتا ہوں
تاریک خلا اوڑھے
گُلپوش رہو مجھ میں
خُوشبو سی دُعا اوڑھے
کس باغ سے نکلے ہو
یہ رنگ نیا اوڑھے
جاتے ہو کدھر شاہد
رستوں کی ہوا اوڑھے
شاہد ماکلی
No comments:
Post a Comment