Tuesday, 4 May 2021

ذرا سے عرصے میں آہ کیسے بدل گئے ہو

 بدل گئے ہو

ذرا سے عرصے میں آہ کیسے بدل گئے ہو

تمہیں خبر ہے

وہ ہاتھ دھرتی نے کھا لیے ہیں

جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں میں

ہماری خاطر فقط دعائیں بھری ہوئی تھیں

تمہیں پتہ ہے

وہ ہونٹ مٹی میں جھڑ رہے ہیں

ہمارے چہروں پہ جن کے بوسے جڑے ہوئے ہیں

وہ آنکھیں اندھی لحد میں شاید بکھر چکی ہوں

وہ شب گئے تک

ہماری راہوں میں اپنی کرنیں بکھیرتی تھیں

ہمارے نم کو نمود دے کر

زمیں کو اپنا وجود دے کر

کہاں گئے ہو

زمیں کے نم میں ہمارے پیکر پگھل گئے ہیں

بدل گئے ہو تو آؤ دیکھو

کہ ہم بھی کتنے بدل گئے ہیں

دعائیں مٹی میں گر پڑی ہیں

خدا سے کیسی شکایتیں ہوں

چراغ سانسوں نے پھونک ڈالا

ہوا سے کیسی شکایتیں ہوں جو گھر میں ٹھہریں تو خوف آئے

کہ اپنے پیکر ہیں سائے سائے

سفر پہ نکلیں تو رکتے رکتے

کہ جیسے رخصت کرے گا کوئی

جو راہ تھکنے لگے تو چپکے سے لوٹ آئیں

کہ کوئی واپس نہیں بلاتا

اداس ہوں تو کسے بتائیں

گلے سے کوئی نہیں لگا ہے

جو آئینوں سے الجھ پڑیں تو

یہ کون پوچھے کہ کیا ہوا ہے

جو تم نے بدلا ہے روپ ایسا

تو ہم بھی ویسے نہیں رہے ہیں

نہیں رہے ہو تو ہم بھی رہتے ہیں یوں کہ

جیسے نہیں رہے ہیں


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment