کیا انتشار خطہ وحشت میں پڑ گیا
یعنی کہ بل مزاجِ محبت میں پڑ گیا
در پیش تھا خلا کا سفر، اور ناگہاں
پاؤں مِرا زمین پہ عجلت میں پڑ گیا
ہر چند غم نے میرا نکھارا سخن، مگر
دل ایک بد قماش کی صحبت میں پڑ گیا
اے کرۂ فراق! بتا، کیا معاملہ؟؟
اس بار خاک سے تِرا ہجرت میں پڑ گیا
میں بولتا تھا، اس کو سُنائی نہ کچھ دیا
وہ دیکھتا تھا اور میں حیرت میں پڑ گیا
شفق سوپوری
No comments:
Post a Comment