دُکھی دلوں میں، دُکھی ساتھیوں میں رہتے تھے
یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے
وہ ایک شخص بُرائی پہ تُل گیا تو چلو
سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے
اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں
تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اُترتے تھے
جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے
وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے
اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے
وہ قہقہے جو تِری انجمن میں لگتے تھے
وہ ایک دن کہ محبت کا دن کہیں جس کو
کہ آگ تھی نہ تپش بس سُلگتے جاتے تھے
کہاں وہ ضبط کے دعوے کہاں یہ ہم گوہر
کہ ٹُوٹتے تھے نہ پھر ٹُوٹ کر بکھرتے تھے
گوہر ہوشیارپوری
No comments:
Post a Comment