Sunday, 19 September 2021

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

 خواہشوں کی کتاب تھے، جب تھے

زندگی کا نصاب تھے، جب تھے

اپنی انگلی پکڑ کے چلتے تھے

خود کو ہم دستیاب تھے، جب تھے

اپنی آنکھوں میں اب کھٹکتے ہیں

چشمِ یاراں کا خواب تھے، جب تھے

طاقِ ماضی کے یہ اداس دِیے

شوق میں آفتاب تھے، جب تھے

اب میسر نہیں ہیں خود کو بھی

ہم تِرے بے حساب تھے، جب تھے

یہ جو آنکھیں بجھی بجھی ہیں ناں

ان میں بھی چند خواب تھے، جب تھے

اب جو سوکھے پڑے ہیں قبروں پر

یہ بھی تازہ گلاب تھے، جب تھے


اقبال طارق

No comments:

Post a Comment